ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / نصابی کتب کیسے جنسی عدم مساوات کی تعلیم دیتے ہیں؟

نصابی کتب کیسے جنسی عدم مساوات کی تعلیم دیتے ہیں؟

Wed, 20 Dec 2017 13:52:41    S.O. News Service

بنگلورو،19/دسمبر(ایس او  نیوز) ریاستی حکومت کی طرف سے تیار کردہ نصابی کتب کے سلسلہ میں حال ہی میں (نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹرائننگ )این سی ای آر ٹی کی طرف سے یہ الزام لگایا گیا تھا کہ ان کا مواد بچوں کو پڑھائے جانے کے قابل نہیں ہے، لیکن مارہین تعلیم کا کہنا ہے کہ خود این سی ای ار ٹی کی کتابوں میں ایسا مواد پایا جاتا ہے جو بچوں کے ذہنوں کو غلط رخ فراہم کر تا ہے۔خاص طور پر جنسی مساوات کے معاملہ میں این سی ای آرٹی کی کتابیں بڑے پیمانہ پر تنقید کا نشانی بنی ہیں۔مثال کے طور پر این سی ای آر ٹی کی پانچویں جماعت کی انگیزی نصابی کتاب کے صفحات کو الٹتے ہوئے ، ہم ایک تصویر کو دیکھتے ہیں جس میں پانچ مرد حضرات ایک عمارت کی تعمیر کے کام میں جٹے ہوئے ہیں، ایسے مقامات پر جو عام طور سے ریت اور اینٹیں وغیرہ اپنے سروں پر لے کر مردوں تک پہنچانے والی عورتیں ہوتی ہیں وہ اس تصویر میں دکھائی نہیں دے رہی ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ تصویر این سی ای آر ٹی کی پرائمری جماعتوں کے لئے تیار کردہ نصابی کتب میں جنسی عدم مساوات کی ایک مثال ہے۔حقوق اطفال کے سلسلہ میں سرگرم ایک غیر سرکاری تنظیم’’ ایکشن ایڈ انڈیا‘‘ نامی تنظیم کی جانب سے کئے گئے ایک مطالعہ میں یہ نتائج اخذ کئے گئے ہیں کہ ان نصابی کتب میں جنسی عدم مساوات کا ایسا مواد بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے۔ایک فرانسیسی طالب علم انائس لیکلیرے،جو مذکورہ غیر سرکاری تنظیم کے ساتھ کام کر رہے ہیں نے این سی ای آر ٹی کی پہلی تا پانچویں جماعتوں کی نصابی کتب کا مطالعہ کیا اور پایا کہ نیشنل کریکولم فریم ورک کے رہنماء اصول اور ان کتابوں میں موجود مواد کے درمیان بھاری فرق پایا جاتا ہے۔لیکلیرے نے بتایا کہ’’رہنماء اصول ہر طرح سے جنسی مساوات کی بنیادوں پر قائم ہیں اور اس کا مقصد صرف یہ نہیں ہے کہ ’’مواقع کے معیار‘‘ کو حاصل کیا جائے بلکہ ’’نتائج کے معیار ‘‘ کو بلند کیا جا سکے۔جنسی مساوات کو فروغ دینے والی زبان کے استعمال پر بھی زور دیا گیا ہے، لیکن ان میں سے بعض کتب میں موجود مواد اس نظریہ سے مطابقت نہیں رکھتا ہے‘‘۔ان کتابوں میں مردوں کو’ ’فطری طور پر گھروں کے سربراہ‘‘ کی حیثیت سے پیش کرنے کے علاوہ عورتوں کی سرگرمیوں کو ہر حال میں گھروں کے دائرے تک محدود کر نے کی کوشش کی گئی ہے، عورتوں کو خود ان کی اپنی ذات کے بجائے مردوں کے حوالے ہی سے زیادہ تر پیش کیا گیا ہے جیسے بیویاں اور مائیں وغیرہ۔تقریباً ہر جگہ، دکان چلانے والے، ڈاکٹر، سائنسدان، فوجی وغیرہ کے تعلق سے جو تصاویر پیش کی گئی ہیں ان میں مردوں ہی کی نمائندگی ہے جب کہ خواتین کو زیادہ سے زیادہ استادکی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔اس مطالعہ نے علمی حلقوں میں اس بحث کو چھیڑ دیا ہے کہ کس طرح روزگار کے تعلق سے ایسا امتیاز عمومی اعتبار سے مزید جنسی عدم مساوات کو فروغ دے سکتا ہے۔اس کے علاوہ گھروں سے باہر کی تمام تر سرگرمیوں کے سلسلہ میں بھی لڑکوں اور مردوں ہی کو متحرک دکھایا گیا ہے، یہاں تک کے جانوروں میں بھی اسی طرح کے امتیاز کا اظہار ہوا ہے اور انہیں مردانہ حیثیت سے ہی پیش کیا گیا ہے۔پانچویں جماعت کی انگریزی کتاب کے تجزیہ سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ 56 فیصد تصاویر میں صرف مردوں اور لڑکوں کو پیش کیا گیا ہے جبکہ 20.6 فیصد تصاویر میں خواتین ہیں اور باقی تصاویر میں مردوں اور عورتوں دونوں کو دکھایا گیا ہے۔ماہرین کے مطابق سب سے زیادہ تشویش کی بات کہانیوں میں مردوں اور عورتوں کے کردار کی پیشی ہے جہاں ہر طرح کے ہمت و حوصلوں کے کاموں کے سلسلہ میں مردوں کو اونچا مقام دیا گیا ہے جبکہ خواتین کی تعریف عام طور پر ان کے ایک دوسرے کو مدد کرنے کی صفات سے متعلق ہی کی گئی ہے، اسی ضمن میں طاقت و قوت کو جہاں مردوں کے ساتھ خاص بتایا گیا ہے ،عورتیں کے لئے رحم دلی اور ہمدردی کی صفات کے ساتھ مخصوص کیا گیا ہے۔لیکلیرے نے بتایا کہ’’میں نے کچھ مثبت کہانیاں بھی دیکھی ہیں، جیسے ایک کہانی اس خاتون کی ہے جو فوج میں بھرتی ہوتی ہے ، اسی کے ساتھ ایک اور کہانی بھی ہے جس میں جنسی امتیاز پر بحث کی گئی ہے۔چونکہ این سی ای آر ٹی ان کہانیوں کو خود نہیں لکھتی ہے بلکہ دوسروں کی کہانیوں میں سے انتخاب کر تی ہے، لہٰذا اس بات کے وافر مواقع پائے جاتے ہیں کہ نصابی کتابوں کے لئے، خواتین کو مرکزی کردار فراہم کرنے والی دوسری مضبوط کہانیوں کا انتخاب کیا جائے۔مطالعہ کے دوران دوسری تا چوتھی جماعت کے ہندی، ریاضی، انگریزی اور ماحولیاتی سائنس کی نصابی کتابوں کا تجزیہ کیا گیا تھا۔لیکلیرے کا کہنا ہے کہ تقریباً ان تمام ہی کتابوں میں گھروں سے باہر کی تمام سرگرمیوں کے سلسلہ میں مردوں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے اور خواتین کو کھانا پکانے اور بچوں کو پالنے ہی کے قابل بتایا گیا ہے۔اس مطالعہ کے نتائج کے اجراء کے موقع پر لیکلیرے نے کہا کہ’’میرے اس مطالعہ کا مقصد یہ تھا کہ اس بات کو واضح کیا جائے کہ کس طرح نصابی کتابیں جنسی مساوات کو فروغ دیتی ہیں، لیکن میں یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ ان کتابوں میں خواتین کو کس طرح پیش کیا گیا ہے، پانچویں جماعت کی انگریزی کتاب میں صرف ایک تصویر میں ایک لڑکی کو جینس پہنے ہوئے دکھایا گیا ہے جبکہ چوتھی جماعت کی انگریزی کتاب میں دودھ بیچنے والا، پولیس اہل کار وغیرہ ذمہ داریوں کے لئے بھی صرف مردوں کو مخصوص کیا گیا ہے اور خواتین کو کمزور ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے‘‘۔شیتیج ارس، جو ایکشن ایڈ انڈیا کے کرناٹک اور کیرلہ شاخوں کی سربراہی کرتے ہیں، نے بتایا کہ انہوں نے کرناٹک کے ریاستی تعلیمی بورڈ کو یہاں کی نصابی کتابوں کا جائزہ لینے کے بعد کچھ تجاویز پیش کیں تھیں جن کو ریاستی حکومت نے قبول کرتے ہوئے انہیں نصابی کتابوں میں نافذ کیا ہے، انہوں نے کہا کہ’’اسی طرح ہم اس مطالعہ کے نتائج کو این سی ای آر ٹی کے سامنے پیش کریں گے، اگرچہ کہ نصابی کتب پر نظر ثانی اہم ہوتی ہے، ہمیں اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ ہمارے اہم دستاویزات جنسی مساوات کی بنیاد پر مرتب کئے جائیں‘‘۔کرناٹک ریاستی کمیشن برائے حقوق اطفال ،کریپا آلوا ، پچھلے ہفتہ شہر میں منعقدہ اس تعلق سے ایک سمینار میں شریک رہیں اور انہوں نے اس سلسلہ میں اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔شہر بنگلور اور اس کے اطراف قریوں ،گاؤں اور جھونپڑ پٹی علاقوں میں بچوں کو تعلیم دینے اور ان کے لئے کام کرنے والی خواتین نے بڑی تعداد میں اس سمینار میں شرکت کی اور اپنے تجربات حاضرین کے درمیان پیش کئے۔غیر سرکاری تنظیم ’’ایکشن ایڈ انڈیا‘‘ نے اب یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ مرکزی حکومت کو تحریری یادداشت پیش کریں گے کہ نظر ثانی کے موقع پر ان کتابوں میں جنسی مساوات کو زیادہ اہمیت دی جائے، اس کے علاوہ، وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ پرائمری سطح سے ہی جنسی مطالعات کو نصاب میں شامل کیا جائے۔کرناٹک ریاستی کمیشن برائے حقوق اطفال بھی یہ چاہتا ہے کہ اسکولوں میں جنسی تعلیم کو شامل کیا جائے۔کمیشن کی چیر پرسن کریپا آلوا نے کہا کہ’’اس معاملہ سے متعلق محکمہ برائے تعلیم کے افسران کے ساتھ ہمارا تبادلہ خیال ہو چکا ہے‘‘۔لیکلیرے کا کہنا ہے کہ جنسی تعلیم کی ابتداء پہلی جماعت ہی سے ہوجانا چاہئے، لیکن کئی مارین تعلیم اور خاص طور پر مذہبی رہنماؤں کا خیال یہ ہے کہ ہائی اسکول کی سطح تک طلباء کو جنسی معاملات سے روشناس کرانا خطرناک ہو سکتا ہے۔اور اس کی وجہ سے معاشرتی بے اعتدالی بھی پیدا ہو سکتی ہے۔بہر حال جنسی تعلیم کا موضوع تو مختلف فیہ ہے لیکن اس بات پر سبھی کا اتفاق ہے کہ مساوات کی اخلاقی اور تہذیبی حدود کے اندر مساوات کی تعلیم کا تو ہر حال میں اہتمام کیا جانا چاہئے۔


Share: